حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری امورِ خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے اربعینِ امام حسینؑ کے موقع پر پاکستان سے عراق جانے والے زائرین کو درپیش مشکلات، بالخصوص پچاس سال سے کم عمر افراد کو فیملی کے بغیر ویزا جاری نہ کیے جانے کی پالیسی، پر سنجیدہ توجہ دلانے کے لیے عراق کی اعلیٰ سیاسی، مذہبی اور مزاحمتی قیادت کو تفصیلی خطوط ارسال کیے ہیں۔
خطوط میں سابق عراقی وزیرِ اعظم محمد شیاع السودانی، سابق وزرائے اعظم نوری المالکی اور عادل عبدالمہدی، تحریک عصائب اہلِ حق کے سیکرٹری جنرل شیخ قیس الخزعلی، تنظیم بدر کے سربراہ الحاج ہادی العامری، تحریک الحکمہ کے سربراہ سید عمار الحکیم، اسلامی سپریم کونسل عراق کے سربراہ ڈاکٹر ہمام حمودی اور کتائب سید الشہداء کے سیکرٹری جنرل حاج ابو آلاء الولائی کی توجہ اس امر کی طرف دلائی گئی ہے کہ پاکستانی زائرین کو درپیش مشکلات کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے وہ اپنا کردار ادا کریں۔
علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے خطوط میں مؤقف اختیار کیا کہ اربعینِ حسینی میں شرکت لاکھوں پاکستانیوں کی دینی و روحانی خواہش ہے، تاہم موجودہ ویزا پالیسی، خصوصاً پچاس سال سے کم عمر زائرین پر عائد پابندی، بڑی تعداد میں عاشقانِ اہل بیتؑ کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے عراقی قیادت سے درخواست کی کہ اس پالیسی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے پاکستانی زائرین کے لیے سہولت اور آسانی کی راہ ہموار کی جائے تاکہ وہ اطمینان اور عزت کے ساتھ زیارتِ عتباتِ عالیات اور اربعینِ امام حسینؑ میں شرکت کر سکیں۔
خطوط میں دونوں برادر اسلامی ممالک، پاکستان اور عراق، کے درمیان مذہبی، تاریخی اور عوامی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور زائرین کی خدمت کو مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے اس مسئلے کے جلد اور مثبت حل کی امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔










آپ کا تبصرہ